مبداء اعلی

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - مراد: خدائے تعالٰی۔ "مبداءِ اعلٰی (حق تعالٰی) ظاہر ہے کہ وہ تو ازلاً و ابداً دائماً فیاض ہیں۔"      ( ١٩٤٠ء، اسفار اربعہ (ترجمہ)، ١٠٢٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق دو اسماء 'مبداء' اور 'اعلٰی' کے مابین کسرہ صفت لگانے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٤٠ء، کو "اسفار اربعہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مراد: خدائے تعالٰی۔ "مبداءِ اعلٰی (حق تعالٰی) ظاہر ہے کہ وہ تو ازلاً و ابداً دائماً فیاض ہیں۔"      ( ١٩٤٠ء، اسفار اربعہ (ترجمہ)، ١٠٢٢ )